KSA forum
Welcome to KSAForum,

You are currently viewing our boards as a Guest which gives you limited access to view most discussions and access our other features. By joining our free community you will have access to post topics, communicate privately with other members (PM), respond to polls, upload content and access many other special features. Registration is fast, simple and absolutely free so please, join our community today!

If you have any problems with the registration process or your account login, please contact us.

بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

View previous topic View next topic Go down

بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

Post by Haya on 15th June 2010, 5:21 am


صحیح بخاری -> کتاب فضائل اصحاب النبی

باب : حضرت ابوالحسن علی بن ابی طالب القرشی الہاشمی کے فضائل کا بیان

وقال النبي صلى الله عليه وسلم لعلي ‏"‏ أنت مني وأنا منك ‏"‏‏.‏ وقال عمر توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنه راض‏
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک ان سے راضی تھے ۔

تشریح : امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔ آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوالتراب ہے۔ آٹھ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور غزوہ تبوک کے سوا تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ یہ گندمی رنگ والے ، بڑی روشن، خوبصورت آنکھوں والے تھے، طویل القامت نہ تھے، داڑھی بہت بھری ہوئی تھی۔ آخر میں سر اور داڑھی ہر دو کے بال سفید ہو گئے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن جمعہ کو 18 ذی الحجہ 35 ھ میں تاج خلافت ان کے سر پر رکھا گیا اور 18 رمضان 40 ھ میں جمعہ کے دن عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے آپ کے سر پر تلوار سے حملہ کیا جس کے تین دن بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کے دونوں صاحبزادوں حضرت حسن اور حضرت حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم نے آپ کو غسل دیا۔ حسن رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔ صبح کے وقت آپ کو دفن کیا گیا، آپ کی عمر 63 سال کی تھی، مدت خلافت چار سال ، نوماہ اور کچھ دن ہے۔

عنوان باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق حدیث ” انت منی وانا منک “ مذکور ہے یعنی تم مجھ سے اور میں تم سے ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ تبوک میں جانے لگے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں چھوڑ گئے ان کو رنج ہوا، کہنے لگے آپ مجھ کو عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جاتے ہیں اس وقت آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی یعنی جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور کو جاتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا جانشیں کر گئے تھے، ایسا ہی میں تم کو اپنا قائم مقام کر کے جاتا ہوں، اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ میرے بعد متصلا تم ہی میرے خلیفہ ہو گے۔ کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات میں گزر گئے تھے۔ دوسری روایت میں اتنا اور زیادہ ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہ ہو گا۔


حدیث نمبر : 3701
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد ـ رضى الله عنه ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ لأعطين الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه ‏"‏ قال فبات الناس يدوكون ليلتهم أيهم يعطاها فلما أصبح الناس، غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم يرجو أن يعطاها فقال ‏"‏ أين علي بن أبي طالب ‏"‏‏.‏ فقالوا يشتكي عينيه يا رسول الله‏.‏ قال ‏"‏ فأرسلوا إليه فأتوني به ‏"‏‏.‏ فلما جاء بصق في عينيه، ودعا له، فبرأ حتى كأن لم يكن به وجع، فأعطاه الراية‏.‏ فقال علي يا رسول الله أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا
فقال ‏"‏ انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه، فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم ‏"‏‏.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر بیان فرمایا کہ کل میں ایک ایسے شخص کو اسلامی علم دوںگا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا ، راوی نے بیان کیا کہ رات کو لوگ یہ سوچتے رہے کہ دیکھئے علم کسے ملتا ہے ، جب صبح ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سب حضرات ( جو سرکردہ تھے ) حاضر ہوئے ، سب کو امید تھی کہ علم انہیں ہی ملے گا ، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے یہاں کسی کو بھیج کر بلوالو ، جب وہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ میں اپنا تھوک ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی ، اس سے انہیں ایسی شفا حاصل ہوئی جیسے کوئی مرض پہلے تھا ہی نہیں ، چنانچہ آپ نے علم انہیں کو عنایت فرمایا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ان سے اتنا لڑوں گا کہ وہ ہمارے جیسے ہوجائیں ( یعنی مسلمان بن جائیں ) آپ نے فرمایا : ابھی یوں ہی چلتے رہو ، جب ان کے میدان میں اترو تو پہلے انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاو کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں ، خدا کی قسم اگر تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں ( کی دولت ) سے بہتر ہے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ جہاں تک ممکن ہو لڑائی کی نوبت نہ آنے پائے، اسلام لڑائی کرنے کا حامی نہیں ہے، اسلام امن چاہتا ہے، اس کی جنگ صرف مدافعانہ ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم، عن يزيد بن أبي عبيد، عن سلمة، قال كان علي قد تخلف عن النبي صلى الله عليه وسلم في خيبر وكان به رمد فقال أنا أتخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج علي فلحق بالنبي صلى الله عليه وسلم، فلما كان مساء الليلة التي فتحها الله في صباحها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لأعطين الراية ـ أو ليأخذن الراية ـ غدا رجلا يحبه الله ورسوله ـ أو قال يحب الله ورسوله ـ يفتح الله عليه ‏"‏‏.‏ فإذا نحن بعلي وما نرجوه، فقالوا هذا علي‏.‏ فأعطاه رسول الله صلى الله عليه وسلم ففتح الله عليه‏.‏

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے حاتم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بوجہ آنکھ دکھنے کے نہیں آ سکے تھے ، پھر انہوں نے سوچا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک نہ ہو سکوں ! چنانچہ گھر سے نکلے اور آپ کے لشکر سے جا ملے ، جب اس رات کی شام آئی جس کی صبح کو اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کل میں ایک ایسے شخص کو علم دوں گا یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ کل ) ایک ایسا شخص علم کو لے گا جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت ہے یا آپ نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائے گا ، اتفاق سے حضرت علی رضی اللہ عنہ آگئے ، حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں امید نہیں تھی لوگوں نے بتایا کہ یہ ہیں علی رضی اللہ عنہ ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علم انہیں کو دے دیا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر کو فتح کرا دیا ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت خلافت اوائل ماہ ذی الحجہ 35 ھ میں ہوئی تھی جسے جمہور مسلمانوں نے تسلیم کیا۔


حدیث نمبر : 3703
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن أبيه، أن رجلا، جاء إلى سهل بن سعد فقال هذا فلان ـ لأمير المدينة ـ يدعو عليا عند المنبر‏.‏ قال فيقول ماذا قال يقول له أبو تراب‏.‏ فضحك قال والله ما سماه إلا النبي صلى الله عليه وسلم، وما كان له اسم أحب إليه منه‏.‏ فاستطعمت الحديث سهلا، وقلت يا أبا عباس كيف قال دخل علي على فاطمة ثم خرج فاضطجع في المسجد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أين ابن عمك ‏"‏‏.‏ قالت في المسجد‏.‏ فخرج إليه فوجد رداءه قد سقط عن ظهره، وخلص التراب إلى ظهره، فجعل يمسح التراب عن ظهره فيقول ‏"‏ اجلس يا أبا تراب ‏"‏‏.‏ مرتين‏.‏

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے کہ ایک شخص حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور کہا کہ یہ فلاں شخص اس کا اشارہ امیر مدینہ ( مروان بن حکم ) کی طرف تھا ، برسر منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتا ہے ، ابوحازم نے بیان کیا کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا کہتا ہے ؟ اس نے بتایا کہ انہیں ” ابوتراب “ کہتا ہے ، اس پر حضرت سہل ہنسنے لگے اور فرمایا کہ خدا کی قسم ! یہ نام تو ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس نام سے زیادہ اپنے لیے اور کوئی نام پسند نہیں تھا ۔ یہ سن کر میں نے اس حدیث کے جاننے کے لیے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے خواہش ظاہر کی اور عرض کیا اے ابوعباس ! یہ واقعہ کس طرح سے ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے اور پھر باہر آ کر مسجد میں لیٹ رہے ، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) دریافت فرمایا ، تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ مسجد میں ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے ، دیکھا تو ان کی چادر پیٹھ سے نیچے گر گئی ہے اور ان کی کمر پر اچھی طرح سے خاک لگ چکی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ان کی کمر سے صاف فرمانے لگے اور بولے ، اٹھو اے ابوتراب اٹھو (دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

حدیث نمبر : 3704
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا حسين، عن زائدة، عن أبي حصين، عن سعد بن عبيدة، قال جاء رجل إلى ابن عمر، فسأله عن عثمان،، فذكر عن محاسن، عمله، قال لعل ذاك يسوؤك‏.‏ قال نعم‏.‏ قال فأرغم الله بأنفك‏.‏ ثم سأله عن علي، فذكر محاسن عمله قال هو ذاك، بيته أوسط بيوت النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏ ثم قال لعل ذاك يسوؤك‏.‏ قال أجل‏.‏ قال فأرغم الله بأنفك، انطلق فاجهد على جهدك‏.

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا ، کہا ہم سے حسین نے ، ان سے زائدۃ نے ، ان سے ابوحصین نے ، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا ، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے محاسن کا ذکر کیا ، پھر کہا کہ شاید یہ باتیں تمہیں بری لگی ہوں گی ، اس نے کہا جی ہاں ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے پھر اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا ، انہوں نے ان کے بھی محاسن ذکر کئے اور کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا نہایت عمدہ گھرانہ ہے ، پھر کہا شاید یہ باتیں بھی تمہیں بری لگی ہوں گی ، اس نے کہا کہ جی ہاں ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے ، جا ، اور میرا جو بگاڑنا چاہے بگاڑ لینا ، کچھ کمی نہ کرنا ۔

پوچھنے والا نافع نامی خارجی تھا جو حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما ہ ردو کو برا سمجھتا تھا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خاندانی شرافت کا ذکر کیا مگر خارجیوں نے سب کچھ بھلا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سے خروج کیا اور ضلالت وغوایت کا شکار ہوئے۔
حدیث نمبر : 3705
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن الحكم، سمعت ابن أبي ليلى، قال حدثنا علي، أن فاطمة، عليها السلام شكت ما تلقى من أثر الرحا، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم سبى، فانطلقت فلم تجده، فوجدت عائشة، فأخبرتها، فلما جاء النبي صلى الله عليه وسلم أخبرته عائشة بمجيء فاطمة، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم إلينا، وقد أخذنا مضاجعنا، فذهبت لأقوم فقال ‏"‏ على مكانكما ‏"‏‏.‏ فقعد بيننا حتى وجدت برد قدميه على صدري وقال ‏"‏ ألا أعلمكما خيرا مما سألتماني إذا أخذتما مضاجعكما تكبرا أربعا وثلاثين، وتسبحا ثلاثا وثلاثين، وتحمدا ثلاثة وثلاثين، فهو خير لكما من خادم ‏"‏‏.
avatar
Haya
Senior Member


Back to top Go down

Re: بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

Post by Nimmi on 15th June 2010, 2:42 pm

Jazakallah khaair...

Bohat shukira.. please aisy hi achi information share karti raheen.
avatar
Nimmi
Founder Founder

Tiger

Back to top Go down

Re: بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

Post by Haya on 16th June 2010, 2:28 am

shukriya AK.
inshaALLAH....!
avatar
Haya
Senior Member


Back to top Go down

Re: بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

Post by Guest on 16th June 2010, 1:37 pm

MashAllah bohat achi info hai....please keep sharing

Guest
Guest


Back to top Go down

Re: بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

Post by midnite angel on 16th June 2010, 7:32 pm

bht umda sharing haya
avatar
midnite angel
Senior Member


Back to top Go down

Re: بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

Post by Haya on 16th June 2010, 10:28 pm

app sab ka bhut shukriya.......
avatar
Haya
Senior Member


Back to top Go down

Re: بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

Post by D.M on 27th June 2010, 12:44 pm

Jazakallah khaair.
avatar
D.M
ModeratorModerator

Horse

Back to top Go down

Re: بوالحسن عل, رضی اللہ عن¬

Post by Sponsored content


Sponsored content


Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum